ناگپور 29/ڈسمبر (ایس او نیوز/ایجنسی) کانگریس نے 'ہیں تیار ہم' کے نعرے کے ساتھ 2024 کے انتخابات کے لئے بھگوا خیمے کے گڑھ سے ہی انتخابات کا بگل بجادیا ہے. پارلیمانی الیکشن کو نظریات کی لڑائی قرار دیتے ہوئے کانگریس رہنما راہول گاندھی نے اس لڑائی کو جیتنے کا عزم ظاہر کیا اور عوام سے وعدہ کیا کہ جیت کے ساتھ ہی کانگریس ذات پر مبنی سروے کرائے گی اور ملک کے عوام کو انصاف دلائے گی۔
ناگپور میں منعقدہ کانگریس کی عالیشان ریلی میں پوری کانگریس پارٹی موجود تھی۔کانگریس نے یہاں کھل کر طاقت کا مظاہرہ کیا اور اپنی پارٹی کا 139 واں یوم تاسیس بھی منایا۔
پارٹی کی جانب سے ناگپور کے دگھوری علاقے میں منعقدہ مہا ریلی میں ملک بھر سے پارٹی کارکنان اور لیڈروں کی بڑی تعداد شریک رہی۔ ریاستی سطح کے تمام لیڈران گزشتہ کئی دنوں سے ناگپور میں موجود تھے جبکہ قومی سطح کے لیڈروں کی بھی بڑی تعداد یہاں موجود رہی۔ حالانکہ کانگریس پارٹی کی سابق صدر سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی نے ریلی میں شرکت نہیں کی لیکن پارٹی لیڈران نے ان کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔
اس ریلی سے جس میں تقریباً ایک لاکھ افراد نے شرکت کی کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نےپرجوش انداز میں خطاب کیا اور کہا کہ’’2024ء کا پارلیمانی الیکشن 2؍ نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک کانگریس کا نظریہ ہے جو سبھی کو ساتھ لے کر چلنے اور سبھی کی ترقی اور فائدہ کےبارے میں سوچتا ہے تو دوسری طرف آر ایس ایس اور بی جے پی کا نظریہ ہے جو ملک میں نفرت کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ملک کی ترقی روکنے کا سبب بن رہا ہے۔‘‘ راہل گاندھی نے کانگریس اور بی جے پی کے درمیان فرق کی نشاندہی کی اور تنقید کی کہ ملک میں آمریت چل رہی ہے۔انہوں نے بی جے پی کی ’حکم شاہی‘ کوہدف تنقید بناتے ہوئے ایک واقعہ کا تذکرہ کیا اور کہا کہ جو کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں گئے ہیں وہ وہاں پر اب گھٹن محسوس کررہے ہیں اور انہیں یہ لگ رہا ہے کہ انہیں غلام بنالیا گیا ہے۔ جو کچھ بی جے پی اعلیٰ کمان کہہ دے بس وہی ہوتا ہے۔ وہاں بادشاہت والا نظام ہے جمہوریت نام کو بھی نہیں ہے۔ اس حوالے سےراہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی میں اعلیٰ کمان کے حکم کے بغیر ایک پتہ بھی نہیں ہلتا جبکہ کانگریس پارٹی میں ایک معمولی کارکن بھی بڑے سے بڑے لیڈر سےسوال کرسکتا ہے۔
راہل نے اس کے بعد اس سوال کا جواب دیا کہ کانگریس نے ملک کیلئے کیا کیا ؟ راہل کے مطابق کانگریس نے ملک کی ترقی کے وہ کام کئے ہیں جنہیں کرنے کیلئے بی جے پی اور آر ایس ایس کو صدیاں لگ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے ملک کو سب سے بڑا تحفہ جمہوریت کے طور پر دیا جہاں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے ملک کے ایک ایک شہری کو یکساں حقوق دینے والا آئین تیار کیا ۔ اس پر کانگریس اب بھی عمل پیرا ہے لیکن بی جے پی اس آئین کو ختم کردینا چاہتی ہے۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے لوگ آئین مخالف ہیں۔ وہ ترنگے کو سلامی نہیں دیتے ۔ اسی لئے ہم ان کے خلاف ہیں۔
راہل گاندھی نے گودی میڈیا پر بھی تنقید کی اور کہا کہ میڈیا کو دیکھو، کیا ایسا لگتا ہے کہ وہ جمہوریت کی خدمت کر رہے ہیں؟ میڈیا والوں سے پوچھو، جو بات دل میں ہے وہ نہیں کہہ سکتے۔ دوسری طرف سی بی آئی اور ای ڈی کا دباؤ ہے۔ ان دونوں ایجنسیوں کا ہر طرح سے غلط استعمال کیا جارہا ہے لیکن اس کے لوگ بھی کچھ نہیں کہہ پارہے ہیں۔ اس لئے ہم ملک کے لوگوں کو طاقت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ کانگریس نے نوجوانوں کو ویژن دینے کا کام کیا ہے۔ راہل نے کہا کہ ہندوستان کی ہزاروں سال کی تاریخ میں پہلی بار ایسا کیا گیا ہے۔ پہلی بار کسی ہندوستانی کو ووٹ دینے کا حق دیا گیا۔ چاہے وہ دلت ہو ، قبائلی ہو ، خاتون ہو اور چاہے وہ کسی بھی ذات کا ہو ہر شہری کو ووٹ ڈالنے کا حق ہے۔یہ کام کانگریس نے کیا ۔گاندھی جی جیل گئے، نہروجی جیل گئے، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے کئی سال تک جدوجہد کی۔ یہ قربانیاں کانگریس پارٹی کے تمام بڑے لیڈروں نے دی ہیں اور ہم ان قربانیوں کی قیمت بھی جانتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ ملک کی تعمیر کیا ہو تی اور اس کیلئے کتنا خون پسینہ ایک کرنا پڑتا ہے۔ ہمارا نظریہ کہتا ہے کہ ملک کی باگ ڈور عوام کے ہاتھ میں ہونی چاہئے۔ ملک کو اس طرح نہ چلایا جائے جس طرح پہلے بادشاہ چلاتے تھے۔ ہم عوامی طاقت کی بات کرتے ہیں۔آزادی کی جنگ ملک کے عوام نے لڑی تھی۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ آزادی کی جدوجہد صرف انگریزوں کے خلاف تھی لیکن ایسا نہیں۔ بادشاہوں اور مہاراجوں کی انگریزوں کے ساتھ شراکت داری کے خلاف کانگریس نے غریب لوگوں کے لئے یہ جنگ لڑی تھی۔اگر آپ آزادی سے پہلے کے دور کو دیکھیں تو ہندوستانی عوام کے پاس کسی قسم کے حقوق نہیں تھے۔ دلتوں کو چھوا تک نہیں جاتا۔ یہ آر ایس ایس کا نظریہ ہے لیکن ایک بار پھر ملک کو اسی راستے پر لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے مگر ہم اسے روکیں گے ۔ راہل گاندھی نے اپنے ایک گھنٹے سے بھی زیادہ کے خطاب میں بے روزگاری ، مہنگائی اور اگنی ویر اسکیم کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اب میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ نریندر مودی نے پچھلے دس سال میں کتنے لوگوں کو ملازمت دی؟ ملک کے کروڑوں نوجوان اپنی توانائی ضائع کر رہے ہیں۔ ملک کے نوجوان ملازمت نہیں کرتے بلکہ اپنے موبائل فون پر انسٹاگرام اور سوشل میڈیا دیکھتے ہیں اور حقیقت یہی ہے۔ ان کے پاس کوئی کام نہیں ہے اس لئے وہ سوشل میڈیا پر مگن ہیں۔ کسانوں اور نوجوانوں پر حملے جاری ہیں اور دوسری طرف دو تین صنعتکاروں کے وارے نیارے کئے جارہے ہیں۔
راہل گاندھی کے مطابق کچھ دن پہلے کچھ نوجوان میرے پاس آئے اور کہا، پہلے ہمیں فوج میںبھرتی کیا گیا تھا لیکن اس دوران اگنی ویر اسکیم لائی گئی اور ہمارا انتخاب رد ہو گیا۔راہل کے مطابچ مودی حکومت نے اگنی ویر اسکیم تو نافذ کردی لیکن نوجوانوں کو فوج میں بھرتی نہیں کیا۔ راہل نے اس دوران اوبی سی کا موضوع بھی اٹھایا اور کہا کہ ملک کے اعلیٰ عہدوں پر او بی سی کوپہنچنے نہیں دیا جارہا ہے۔ انہوں نے ذات پر مبنی مردم شماری کا وعدہ بھی دہرایا۔
کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے نظریہ اور اس کی ضرورت پر خطاب کیا اور کہا کہ ملک کی تمام ملائی چند دولت مند لوگوں کے ہاتھوں میں سونپی جارہی ہے۔ کھرگے نے اس دوران کچھ منٹ کے لئے مراٹھی میں بھی گفتگو کی اور بتایا کہ مہاراشٹر کی سرزمین اور ناگپور شہر سے کانگریس کا تاریخی ناطہ ہے۔ یہاں پر ۱۹۲۰ء میں مہاتما گاندھی نے انگریزوں کے خلاف تحریک شروع کی تھی جو نہایت کامیاب رہی اور اب ہم یہیںسے ملک کو واضح پیغام دے رہے ہیں کہ وہ تقسیم کرنے والی طاقتوں سے ہوشیار رہتے ہوئے اگلے لوک سبھا الیکشن میں صرف انڈیا اتحاد اور کانگریس کو ہی ووٹ دیں۔